حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے کہا ہے کہ کتاب اور تحریر نے اسلامی تعلیمات، احادیث اور اہل بیتؑ کے معارف کو محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے تہران کی مسجد حضرت امیرؑ میں ہفتہ وار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کے ذریعے گزشتہ قوموں کے حالات، تجربات اور تاریخ سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے بھی اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰؑ کو گزشتہ قوموں کی تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تاکید کی۔ تاریخ کا مطالعہ صرف واقعات جاننے کے لیے نہیں، بلکہ گزشتہ قوموں کی کامیابیوں سے سیکھنے اور ان کی غلطیوں سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قرآن کریم کی آیات لکھی جاتی تھیں اور حضرت علیؑ بھی اس کام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کو تحریر میں محفوظ کرنے سے اہل بیتؑ کے علمی ورثے کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا راستہ ہموار ہوا۔
انہوں نے دعائے کمیل اور صحیفہ سجادیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان دعاؤں کو تحریر اور روایت کے ذریعے محفوظ کیا گیا۔ حضرت کمیل بن زیاد نے حضرت علیؑ سے دعائے کمیل سننے کے بعد اسے لکھنے کی درخواست کی تھی، جس کے نتیجے میں یہ دعا محفوظ ہوئی۔ انہوں نے دعائے کمیل کو خدا سے رابطے، توبہ اور مغفرت طلب کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیخ کلینی کی الکافی، شیخ صدوق کی من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ طوسی کی تہذیب الاحکام اور الاستبصار اور علامہ مجلسی کی بحار الانوار جیسی کتابوں نے شیعہ علمی و حدیثی ورثے کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے زور دیا کہ اگر علماء اور محدثین احادیث، خطبات اور دینی تعلیمات کو تحریر میں محفوظ نہ کرتے تو اسلام کا بڑا علمی اور روحانی سرمایہ آئندہ نسلوں تک نہ پہنچ پاتا۔










آپ کا تبصرہ